1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

سنو پیاری بیٹی


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by PRINCE SHAAN, Jan 15, 2014.

Urdu Iqtebaas"/>Jan 15, 2014"/>

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest


    سنو پیاری بیٹی


    میری شادی کو تقریباً دو سال گزرے تھے، میں اپنے میاں کے ساتھ کھاریاں میں مقیم تھی۔ یہ 1971 کی جنگ کا زمانہ تھا۔ محاذ سے زخمی فوجی گاڑیوں کے ذریعے کھاریاں سی ایم ایچ لائے جاتے تھے۔ میں اپنے ایک سال کے بیٹے کو گھر چھوڑ کر سی ایم ایچ اسپتال میں نرسوں کی مدد کے لیے چلی جاتی تھی۔ ایک دن حسب روایت اسپتال گئی، ایک نرس ایک زخمی فوجی کی مرہم پٹی میں مصروف تھی، مجھے دیکھا تو بلا لیا۔ میں زخمی سپاہی کے زخم روئی سے صاف کرنے میں مصروف ہو گئی۔ میں کام میں منہمک تھی کہ ناگاہ اس جوان کے چہرے پر میری نظر پڑی، میں نے محسوس کیا کہ وہ رو رہا ہے، مجھے خیال آیا کہ درد کی شدت سے رو رہا ہوگا، تاہم رہا نہ گیا میں نے پوچھا کہ کیا ایسا ہی ہے؟ تو اس کڑیل جوان نے جواب دے کر حیرت زدہ کردیا۔ اس نے کہا،’’میں زخموں کی تکلیف سے نہیں بل کہ زخمی ہونے پر رو رہا ہوں، میری شدید خواہش تھی کہ میں قوم و ملک کے لیے شہید ہوجائوں مگر میں زخمی ہو گیا، افسوس اب تن درست ہونے پر بھی موقع شاید ہی ملے، میرے شہید ہونے کا موقع جاتا رہا۔‘‘

    ہوا یوں کہ محاذ پر دشمن کی توپ کا گولہ اس کے بالکل قریب ہی پھٹا، جس سے اس کے جسم کا 80 فی صد حصہ جھلس گیا تھا۔ میں اس کا جذبۂ شہادت دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ میں نے اپنی باتوں سے اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی مگر وہ مسلسل روتا رہا حتیٰ کہ ہچکیاں لینے لگا۔ میری حیرت میں اضافہ بھی ہو رہا تھا اور دل میں ایک ان جانی خوشی بھی اُبل رہی تھی کہ ہماری مائیں کیسے کیسے سپوت جنم دے رہی ہیں جو ملک و قوم پر نثار ہونے کے جذبے سے سرشار ہیں۔ یہ سب مائوں کی تربیت کا اثر ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو ایسے اعلیٰ و ارفع جذبے سے سرشار کرکے میدان جنگ میں بھیجتی ہیں، وہ ان کے دل میں یہ بات راسخ کردیتی ہیں کہ ملک و قوم کے لیے قربان ہونا اعلیٰ درجے پر فائز ہونا ہے۔ میں کچھ دیگر مصروفیات کی وجہ سے اسپتال نہ جا سکی لیکن جب گئی اور اس کا پتا کیا تو معلوم ہوا کہ وہ جوان خالق حقیقی سے جا ملا ہے، بہت صدمہ ہوا۔ میں اس کے گھر کا پتا لے کر اس کے گائوں پہنچ گئی۔ وہاں اور بہت سی حیرتوں سے دوچار ہوئی۔ اس کی بیوی حقیقت میں مجسمۂ صبر و رضا تھی، میرے اظہارافسوس پر گویا ہوئی، ’’مجھے فخر ہے کہ میں شہید کی بیوہ ہوں۔‘‘

    میں نے دیکھا ایک آنسو بھی اس کی آنکھ سے نہیں ٹپکا، اس کے بچے بھی قابل فخر ضبط کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس نے اپنے بچے کو اشارہ کیا کہ وہ مرغی ذبح کروا لائے۔ یہ مرغی ان کا کل اثاثہ دکھائی دے رہی تھی، جس کے انڈے وہ بیوہ فروخت کرتی تھی۔ وہ خاتون پہلے ہی ہماری بہت خدمت کر چکی تھی، میرے روکنے کے باوجود بچہ مرغی ذبح کروانے چلا گیا۔ اس لمحے میرے دل میں آیا کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ان غریبوں کو کتنا بڑا دل دیا ہے۔ وہ اپنا واحد اثاثہ بھی مہمان نوازی کی نذر کر رہی تھی۔اس جنگ میں میرے دیور بھی شہید ہوئے تھے۔ ان کی میت میرے گھر آئی تھی۔ میت آنے پر صبرو تحمل کا جو مظاہرہ میں نے اپنے گھر میں دیکھا وہ بھی یادگار ہے۔ میری ساس نے بھی بڑے مثالی صبر کا مظاہرہ کیا تھا۔ یہ دو ایسے واقعات ہیں جو چار دہائیاں گزرنے پر بھی میرے دل و دماغ میں تر و تازہ ہیں، مجھے آج بھی وہ جوان شہادت کی خواہش میں بلک بلک کر روتا دکھائی د یتا ہے، اس کی مجسمۂ صبر و رضا بیوہ کا تفاخر سے دمکتا چہرہ مجھے آج بھی یاد ہے۔

    (اقتباس از ’’سنو پیاری بیٹی)



     
  2. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

  3. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    بہت پیاری شئیرنگ کی ہے
    ہمارے ساتھ شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     

Share This Page