1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

100 روپے کے نوٹ


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Library' started by PRINCE SHAAN, Jan 22, 2014.

Library"/>Jan 22, 2014"/>

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest


    100 روپے کے نوٹ


    اس نے گاڑی پوسٹ آفس کے باہر روک دی،
    "ابا یہ لیجیے آپ یہ 100 روپے رکھ لیجیے، جب پینشن لے چکیں گے تو رکشے میں گھر چلے جائیے گا، مجھے دفتر سے دیر ہو رہی ہے"

    بوڑھے باپ کو اُتار کر وہ تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا آگے نکل گیا۔ افضل چند لمحے بیٹے کی دور جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھتا رہا، پھر ایک ہاتھ میں پینشن کے کاغذ اور ایک ہاتھ میں بیٹے کا دیا ہوا سو روپے کا نوٹ پکڑے وہ اُس لمبی سی قطار کے آخرمیں جا کر کھڑا ہو گیا جس میں اُس جیسے بہت سے بوڑھے کھڑے تھے۔ سب کے چہروں پر عمرِ رفتہ کے نشیب و فراز پرانی قبروں پر لگے دُھندلے کتبوں کی مانند کندہ تھے۔

    آج پینشن لینے کا دن تھا، قطار لمبی ہوتی جارہی تھی۔ پوسٹ آفس کی جانب سے پینشن کی رقم ادا کرنے کا عمل خاصا سست تھا۔ سورج آگ برساتا تیزی سے منزلیں طے کرنے میں مصروف تھا۔ بے رحم تپتی دھوپ بوڑھوں کو بے حال کرنے لگی تو کچھ اُدھر قطار میں ہی بیٹھ گئے۔ افضل بھی بے حال ہونے لگا، اُس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا اور لڑکھڑا کر اُدھر قطار میں ہی جا بیٹھا۔

    اچانک ذہن کے پردے پر اپنے بیٹے کا بچپن ناچنے لگا۔
    وہ جب کبھی اچھلتے کودتے گر جاتا تو وہ کیسے دوڑ کر اُسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیتا تھا، اس کے کپڑوں سے دھول جھاڑتا، اُس کے آنسو نکلنے سے پہلے ہی اُسے پچکارتا، پیار کرتا۔۔
    مگر آج وہ خود لڑکھڑا کر دُھول میں لتھڑ رہا تھا اور اُسے اٹھانے والا اُسے یہاں اس طرح چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

    وہ مٹھی کھول کر100 روپے کے اس نوٹ کو دیکھنے لگا جو صبح بیٹا اُس کے ہاتھ میں تھما کر چلا گیا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ ساری عمر ایمانداری سے ملازمت کر کے، بیٹے کو پڑھا لکھا کر، اُس کی شادی کر کے کیا اُس کی زندگی کا سفر اس 100 روپے کے نوٹ پر آ کر ختم ہو گیا ہے؟

    پسینہ اور آنکھوں سے بہتے آنسو چہرے کی جُھریوں میں ایک ساتھ سفر کرتے ہوئے زمین پر ٹپکے اور دُھول اوڑھ کر اپنا وجود کھو بیٹھے۔ لمبی قطار دیکھ کر اُسے اب ایسا محسوس ہونے لگا جیسے کانٹوں بھرے راستوں پر ابھی مزید سفر باقی ہے۔


     
  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    بہت پیاری شئیرنگ کی ہے
    ہمارے ساتھ شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     
  3. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

Share This Page