1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

رشتہ داروں کی اچانک موت پر اپنے دل کا معائن&#

Discussion in 'General Knowledge' started by Net KiNG, Jan 24, 2014.

  1. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    ماہرین کا کہنا ہے جن افراد کے قریبی رشتہ داروں کی اچانک موت واقع ہو جاتی ہے ان میں دل کی بیماری کی پوشیدہ علامات کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ میں ہر روز جن 12 جوان افراد کی اچانک موت واقع ہو جاتی ہے ان میں زیادہ تر کو دل کی مورثی بیماری لاحق ہوتی ہے۔
     
  2. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ خون کے ایک سادہ سے ٹیسٹ سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کیا ان کے قریبی رشتہ داروں کو بھی اسی قسم کے مسائل درپیش ہیں۔

    برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے زور دیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ایسے ٹیسٹ کرائیں۔

    انگلینڈ اور ویلز میں جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ رشتہ داروں میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرانے کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ ان کے پیاروں کی اچانک موت کے بعد سب سے پہلے موت کے بارے میں انھی سے طبی تحقیقات کی جاتی ہیں۔

    دل کی مورثی بیماری کا پتہ ای سی جی کے ذریعے لگایا جا سکتا ہے لیکن اس وقت جن لوگوں کو دل کی بیماری کا خطرہ ہوتا ہے ان میں سے ہر ایک یہ ٹیسٹ نہیں کراتا۔
     
  3. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    اس کے علاوہ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر دل کی صحت کے بارے میں echocardiogram ٹیسٹ بھی کرانا چاہیں۔

    برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ بہتر ٹیسٹ کرنے سے سینکڑوں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے اور یہ سہولت ہر اس شخص کو دی گئی ہے جس کے کسی عزیز کی دل کی مورثی بیماری کے سبب موت واقع ہو گئی ہو۔

    ٹیسٹ کرنے کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ تمام افراد میں دل کی بیماری کی علامات نہ ملیں، لیکن اگر کسی میں دل کی مورثی بیماری کی علامات موجود ہیں تو دل کو درپیش خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر پیٹر ویسبرگ کے مطابق: ’کسی عزیز کی موت کی صورت میں لوگوں کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان میں دل کی مورثی بیماری کے بارے میں معلوم کر سکیں۔

    ’مشکوک حالات میں موت کے بعد بھی اس کے خاندان کے افراد اپنے طبی ٹیسٹ نہیں کراتے، حالانکہ ان کی زندگی خطرے میں ہو سکتی ہے اور اس کے خاندان کو ایک اور صدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک سادہ ٹیسٹ چیزوں کو درست سمت میں لا سکتا ہے۔‘
     
  4. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    ختم شدددددددددددددددددددددددد​
     
  5. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    بہت پیاری شئیرنگ کی ہے
    ہمارے ساتھ شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     
  6. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    Thanks For Like & Comments Umer Brother
    Jazak Allah Khair
     

Share This Page