1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

انقرہ


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Knowledge' started by Net KiNG, Jan 26, 2014.

General Knowledge"/>Jan 26, 2014"/>

Share This Page

  1. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    انقرہ جسے پرانے وقتوں میں انگورا بھی کہتے تھے 1930 میں اس کا نام انقرہ رکھا گیا، یورپی ترکی کا دارالحکومت اور ملک کا اہم شہر ہے۔ یہ سمندر سے تقریباً125 میل جنوب کی طرف واقع ہے۔اس شہر کی صحیح تاریخ و تعمیر تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتی۔ غالباً دوسرے اندازوں کے مطابق یہ شہر پتھر کے زمانے سے آباد ہے۔

    1073 میں سلجوق ترکوں نے اس شہر پر قبضہ کیا،1143, میں سلجوق شہزادے شہر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے آپس میں لڑ پڑے
    اور1360میں اس شہر پر اورخان نے قبضہ کیا۔1403 میں یہ ایک مرتبہ پھرOttoman سلطنت کا حصہ بنا اور اس نے ترقی کی۔

    پہلی جنگ عظیم کے بعد لبرل ذہن کے مالک اتاترک نے حکومت کے خلاف سازشوں کے لیے اس شہر کو اپنا دارالحکومت مقرر کیا اور1923 میں انقرہ کو باقاعدہ ترکی کا دارالحکومت قرار دے دیا گیا۔

    شہر کے فنِ تعمیر کے انداز میں تاریخ جھلکتی ہے۔رومنTemple, Column of Julian اور Augustus Temple اس شہر کی قدیم ترین عمارتوں میں سے ہیں۔ یہاں کی مشہور مسجد، الہٰ دین مسجد ہے۔ اس کے علاوہ بھی شہر میں بہت سی پرانی اور تاریخی عمارتیں ہیں۔ علاوہ ازیں اب بھی کچھ کھنڈرات اپنی تاریخی ساکھ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    یہ صنعتی اعتبار سے استنبول کے بعد ترکی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں کی مشہور صنعتوں میں شراب، بسکٹ، کھانے پینے کی دوسری اشیا، سیمنٹ اور خشک دودھ اہم ہیں۔ اس کے علاوہ تعمیر کا سامان اور ٹریکٹروں کے پرزے بنانے کے بھی کئی کارخانے ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں دن بدن سیاحوں کی آمدورفت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ یہاں پر ایک مشہور میوزیم بھی ہے۔

    اس شہر کو1928 میں صحیح طور پر منصوبہ بندی کرکے تعمیر کیا گیا۔ اور اس شہر میں ہر سہولت کا خیال رکھا گیا، مثلاً کئی لائبریریاں، میوزیم، سفارت خانے، حکومتی دفاتر، فیشن ایبل دکانیں اور ہوٹل وغیرہ موجود ہیں خاص طور پرMuseum of An Atolian Civilization جہاں پرHattite کے قابل تعریف فن تعمیر کے نمونہ جات موجود ہیں۔2000 کے مطابق اس شہر کی آبادی3023000 نفوس پر مشتمل ہے۔
     
  2. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest

    Very nice sharing...............
     
  3. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    Thanks You Brother
     
  4. naponnamja
    Offline

    naponnamja Newbi
    • 18/33

Share This Page