1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا

Discussion in 'Library' started by PRINCE SHAAN, Jan 26, 2014.

  1. [​IMG]

    میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا

    پہلا جھوٹ
    یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔ میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔ اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔۔۔۔
    تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے

    دوسرا جھوٹ
    جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔ میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی
    اس نے واپس کر دی اور کہا۔۔ بیٹا تم کھالو۔۔
    تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے

    تیسرا جھوٹ
    جب میں اسکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔ اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔ سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔ میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔ میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔ دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔
    میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو۔۔ تھک گئی ہوگی۔۔ سردی بھی بہت ہے۔۔ ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے۔۔ باقی کل کر لینا۔۔
    تو ماں بولی۔۔ بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی

    چوتھا جھوٹ
    ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔ اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی۔۔ میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔ میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔ میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔ میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا
    تو وہ بولی۔۔ نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔ مجھے پیاس نہیں ہے

    پانچواں جھوٹ
    جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی۔۔ میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔ وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔ میں نے انھیں کام سے منع کیا اور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ۔۔ تم رکھ لو۔۔۔ میرے پاس ہیں۔۔۔
    مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے

    چھٹا جھوٹ
    میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔ میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔ اور کہا کہ
    مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔ میں نہیں رہ پاوں گی

    آخری جھوٹ
    میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔ انھیں کینسر ہو گیا۔۔ انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔ وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔ میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔ وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔ میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔ تو وہ کہنے لگیں۔۔ مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔
    مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔۔

    جن کے پاس ماں ہے۔ اس عظیم نعمت کی حفاطت کریں اس سے پہلے کہ یہ اپنا آخری جھوٹ بول جائے اور جن کے پاس نہیں ہے ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کون کون سے جھوٹ نہیں بولے اور ان کی مغفرت کے لیے ہمیشہ دعا کرتے رہنا۔۔۔۔۔۔


    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     
  2. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    Thread Of The Day
    Mom Is Great
    Bohat Umda Thread Hai
     
  3. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    بہت پیاری شئیرنگ کی ہے
    ہمارے ساتھ شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     
  4. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    بہت پیاری شئیرنگ کی ہے
    ہمارے ساتھ شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     

Share This Page