1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ممتاز مفتی، الکھ نگری

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by PRINCE SHAAN, Feb 10, 2014.


  1. ایک دن علاقے کا تھانیدار نور بابا کے ڈیرے پر آیا ۔ نور بابا نے حسبِ دستور گوشت روٹی پیش کی۔

    تھانے دار بولا، ہمیں گوشت روٹی پر نہ ٹرخاؤ۔
    تو پھر آپ کی کیا خدمت کریں، بابا نے پوچھا۔

    تھانے دار مونچھ پروڑ کر بولا، ہم اپنا حصہ لینے آئے ہیں۔
    کیسا حصہ ؟ بابا نے پوچھا۔

    تم نے جو پیری مریدی کا دھندا چلا رکھا ہے، اس میں ہمارا حصہ بھی ہونا چاہیے۔
    بابا نے کہا تھانیدار جی اس ڈیرے پر گوشت روٹی اور دوا دارو کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    تھانے دار بولا، اچھا یوں ہی سہی لیکن کھانا کھانے سے پہلے میں پینے کا عادی ہوں۔ وائٹ ہارس کی ایک بوتل منگوا دو۔

    بابا نے کہا،پتر میں تو ان پڑھ ہوں تو کاغذ پر نام لکھ دے۔
    تھانے دار نے پرچی پر نام لکھ دیا۔

    بابا وہ پرچی لے کر شراب کی دکان پر چلا گیا۔
    لوگ حیران تھے کہ یہ بابا کو کیا ہوا کہ شراب کی بوتل اٹھائے جا رہا ہے۔
    بابا نے بوتل کو چھپایا نہیں تھا بلکہ بغل کے نیچے دبا رکھا تھا۔

    پھر یہ معمول بن گیا۔ رات کو بلاناغہ تھانے دار آتا اور بوتل کا مطالبہ کرتا۔ بابا خود بازار جا کر بوتل خریدتا اور ڈیرے پر پہنچ کر تھانے دار کو پیش کر دیتا۔
    تھانے دار مہمان خانے میں بیٹھ کر شراب پیتا اور پھر گوشت روٹی کھا کر چلا جاتا۔

    اس پر ڈیرے پر آنے والوں نے احتجاج کیا۔ کہنے لگے آپ تھانے دار کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اس میں ڈیرے کی بدنامی ہے۔

    گھبراؤ نہیں پتر، بابا جواب دیتا۔ سہج پکے سو میٹھا ہو۔

    پھر ایک روز تھانے دار کو بوتل پیش کرتے ہوئے بابا نے کہا، پتر آج جی بھر کے پی لے۔
    کیوں کل کیا ہوگا؟ تھانے دار نے پوچھا۔

    کل تو بوتل کا محتاج نہ رہے گا، بابا نے جواب دیا۔
    تھانے دار اس پر قہقہہ مار کر ہنسا۔

    اس رات تھانے دار نے اتنی پی کہ غٹ ہوکر ڈیرے کے مہمان خانے میں پڑا رہا۔

    اگلے روز وہ ڈیرے کی مسجد مین جا کر یوں بیٹھ گیا جیسے پتھر کا بنا ہو۔ یہ کیفیت ہفتوں طاری رہی۔ گھر چھوٹ گیا نوکری چھوٹ گئی۔ بالآخر وہ اسی مسجد کا امام بن گیا۔

    اس پر لوگ حیرت ذدہ ہوگئے۔ وہ بابا سے پوچھتے ،بابا جی یہ آپ نے کیا کر دیا۔

    بابا جواب دیتا۔ پتر میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ میں کرنے والا کون ہوں۔ کرنے والا تو وہی ہے ،جو چاہے کر دے، جب چاہے کر دے اور پتر نشہ تو ایک سواری ہے۔ سواری اہم نہیں۔ یہ اہم ہے کہ سواری کا رخ کدھر کو ہے۔ اور پتر وہ جب چاہے رخ بدل دے جسے چاہے جاننے کی پگڈنڈی پر چڑھا دے،جسے چاہے ماننے کی سڑک پر ڈال دے۔

    ممتاز مفتی، الکھ نگری
     
  2. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    * Thanks 4 Sharing *
     
  3. very nice sharing ......
    kep it up
     

Share This Page