1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

افسانہ۔۔۔

Discussion in 'Library' started by PRINCE SHAAN, Mar 2, 2014.

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Offline

    PRINCE SHAAN Guest




    افسانہ۔۔۔

    "منصف" (تحریر : عنبرین ولی )

    نارنجی آگ کے گولے جیسا سورج مغرب کی سمت غروب ہونے لگا تو سیاہ رنگ نے بہت تیزی کے ساتھ چہار سو پھیلے وسیع آسمان کی نیلاہٹ کو خود میں مدغم کر ڈالا تھا۔۔ شام کا حسن رات کے سیاہ لبادے میں کہیں چھپ گیا تھا۔۔

    حویلی پر بھی رات اُتر آئ تھی مگر اس رات کا حویلی والوں پر کوئ اثر نہیں پڑا تھا – حویلی جگنو کی طرح ٹمٹماتے برقی قمقموں سے سجی ہوئ تھی دور سے دیکھنے پر یوں لگتا تھا جیسے بہت سے چگنوؤں نے حویلی کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے ۔حویلی میں آج خوب ہلچل پھیلی ہوئ تھی وسیح احاطہ مہمانوں کی خوش گپیوں سے گھونج رہا تھا ایک طرف مرد گروپوں کی صورت میں محو گفتگو تھے تو دوسری طرف خواتین بلبلوں کی طرح چہچہا رہی تھیں طرح طرح کہ کھانوں کی خوشبو ئیں ہر سو پھیلی ہوئ تھی اب یر سو پھیلی خوشبووں کی وجہ سے مہمان کھانا تیار ہے کی آواز سننے کیلۓ بے تاب تھے ۔

    حویلی میں جاری یہ تقریب کسی بڑی خوشی کو ظاہر کر رہی تھی خوشی تھی بھی بہت بڑی " آج ملک شہباز کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی کی سالگرہ تھی ۔ بہت خوبصورت سے سنہری فراک میں سجی سنوری صاحبہ تتلی کی طرح کبھی ادھر اور کبھی اُدھر بھاگتی تمام مہمانوں کی نگاہوں کا مرکز بنی ہوئ تھی ملک شہباز کی شفیق نگاہیں اُس کا طواف کرنے سے ہٹتی ہی نہین تھیں ۔ ملک شہباز کی طواف کرتی ہوئ محبت بھری نظروں پر محفل میں بیٹھی ایک معمر خاتون کی آنکھوں سے لہو رسنے لگا تھا خوشی کہ اس موقع پر اُس معمر خاتون پر کرب اور سوگواری کہ تاثرات ملک شہباز کو بہت اچھی طرح سمجھ آ رہے تھے اُس معمر خاتون کی نگاہیں جب کبھی ملک صاحب کی نگاہوں سے ٹکراتیں ملک صاحب اذیت سے پہلو بدلنے پر مجبور ہو جاتے ۔
    اُس معمر عورت کیلۓ بھی ملک شہباز کا محبت کا پیکر بنا ہونا بہت اذیت ناک تھا ۔ تقریب بے حد شاندار رہی تقریب کے احتتام پر وہ معمر بیوہ خاتون آہستہ آہستہ چلتے ہوۓ اپنے کڑیل ضدی بیٹے کے پاس آئی جسکے برابر میں اٹھارہ سالہ خوبرو سکندر شہباز بھی اُسی کروفر اور گھمنڈ کے ساتھ باپ کے پاس براجمان تھا یہ غرور ، یہ گھمنڈ ملک سکندر شہباز کو باپ سے وراثت میں ملاتھا سکندر اپنے باپ کا پرتو تھا ۔ دادی پر نگاہ پڑھنے کے باوجود وہ اُسی اکڑی گردن کہ ساتھ بیٹھا رہا ۔ معمر خاتون ہکلاتے ہوۓ جیسے وہ کوئی بہت بڑا جرم کرنے جارہی ہے ملک شہباز سے مخاطب ہوتی ہے شہباز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ آج کا دن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ یاد ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ تم نے ،تم نے کہا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ وہ ٹوٹے پھوٹے مگر مسکین لہجے مین بولی تھی ملک شہباز : ہاں یاد ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملازمہ سے مین نے کہہ دیا ہے آپ جائیں اور جا کر سو جائیں ۔ اُسکا انداز جان چھڑانے والا تھا ۔ ملک شہباز کی اتنی مہربانی پر اُسکی آنکھیں اشک بار ہو گئیں..
    سال میں شاید دو ، چار راتوں کو ہی اُس معمر عورت کو سکون سے نیند نصیب ہوتی تھی ایک طرف ماں بیٹے سے مسکین لہجے میں درخواست کر رہی تھی تو دوسری طرف ملازمہ تہ خانے کی طرف کھانے کا تھال سجاۓ جا رہی تھی جہاں ایک نرم پہلو ، نازک مزاج سی لڑکی قید تنہائ کی سزا کاٹ کاٹ کر روح کے زخموں سے چور چور ہو چکی تھی ۔ ملازمہ نے تہ خانے کا آہنی دروازہ کھولا ۔ تہ خانے کا یہ آہنی دروازہ دن میں تین بار کھُلتا تھا وہ قیدی لڑکی صرف دروازہ کھلنے کے اوقات سے ہی وقت کی پیمائش کرتی تھی جب تیسری بار دروازہ کھلنے کی آواز اُسے سنائی دیتی تو وہ سمجھ جاتی کہ رات اپنے پر پھیلا چکی ہے رات کا تصور اور قید خانے کی دیواریں قید خانے کے ماحول کو اُس کیلۓ مزید وحشت زدہ بنا دیتے ۔ ملازمہ نے اندر مختلف کھانوں سے سجی تھال اُسکے سامنے رکھی وہ فرش پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ پھر ملازمہ نے اُس کے کھُردرے اور بڑھاپے کی طرف مائل نظر آنے والے پیروں سے جو کسی زمانے میں ملائم اور نرم و نازک ہوا کرتے تھے بیڑیوں سے آزاد کیے اس دوران مہرو کے منہ سے سسکیاں آزاد ہوتی رہئیں پتہ نہیں کیوں آج اُسکی سسکیاں خاموشی کو توڑتے ہوۓ زبان پر آ گئ تھیں یا شاید مختلف کھانوں سے سجے تھال کو دیکھ کر اُسے گھر میں ہونے والی تقریب کا اندازہ ہوگیا تھا کہ ضرور آج صاحبہ کی سالگرہ ہو گی یا کوئی اور خوشی کی خبر اسی لیے تو اُس پر یہ مہربانی کی گئ کہ اُس کی بیڑیاں کھول دی گئیں ۔ سال میں دو تین بار ہی اُسکی بیڑیاں کھولی جاتی تھیں اور اُسے ڈھنگ کا کھانا نصیب ہوتا تھا مــــگر پورے سال کے بس یہی چند دن ہوتے جن میں وہ کھانے کی خواہش رکھنے کے باوجود ایک لقمہ تک اپنے بھوکے پیٹ کی تسکین کیلۓ نگل نہ پاتی ۔ آج کی رات پھر اُسکے زخم عام دنوں سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ روۓ تھے درد حد سے تجاوز کر گیا تھا ۔ زرد بلب کی مریل سی روشنی میں اُس نے قید خانے کی اونچی دیواروں کو پھر سے دیکھا ان دیواروں کے پیچھے اُس کی قید تنہائ کو برسوں بیت گۓ تھے مگر وہ آج تک ان سے آشنا نہ ہو پائ تھی اُسے ان دیواروں سے خوف محسوس ہوتا تھا یہ دیواریں اُسکے سامنے ہمیشہ ماضی کو ایسے کھول دیتی تھیں جیسے اُس کی زندگی کی فلم پردہ سکرین پر چل رہی ہے ان دیواروں کو دیکھتے اُسے محسوس ہوتا کے ماضی اُس کے حسین چہرے ہر ایک بدنما داغ کی طرح ٖٖثبت ہے دیواروں کی طرف دیکھتے دیکھتے وہ اپنے ماضی میں کھو گئ ..
    اُسے اپنا بچپن یاد آنے لگا وہ بابا کی لاڈلی مہرو جس کی ایک آواز پر سب ہاتھ باندھے غلاموں کی طرح حاضر ہو جاتے جسے دیکھ دیکھ کر اُس کے بابا جیتے تھے ہاں وہ وہی مہرو تھی ! مگر نہیں مہرو تو کہیں دور مر کھپ گئ تھی دفن ہو گئ تھی یہ تو اُس کی روح ہے یہ خود کلامی کرتے کرتے مہرو نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا ۔ دوسری تمام لڑکیوں کی طرح جوان ہوتے ہی جوانی کی اُمنگیں ، مستقبل کے حسین خواب اُس نے بھی اپنی پلکوں پر ٹانک دیے تھے مستقبل سے بے خبر وہ ادھر اُدھر مچلتی پھرتی تھی ۔
    اسی طرح ایک دن سہیلیوں کے ساتھ شرارتیں کرتے کرتے اُس کی نگاہیں گاؤں کے ہی ایک خوبصورت گبھرو جوان سے چار ہو گئیں صرف آنکھیں چار ہی نہیں ہوئی بلکہ وہ اُس کے عشق میں ہر گزرے دن کے ساتھ ڈوبتی چلی گئ۔۔ عشق کہ ہنڈولے میں جھولتی وہ یکسر فراموش کر چکی تھی کہ ملک شہباز کی بہن پر عشق حرام ہے دونوں جانب برابر آگ لگی ہوئی تھی ۔ نگاۓ چار وہ چھپ چھپ کر ملنے لگے یہ ملاقاتیں تب ہوتیں جب ملک شہباز گاؤں سے باہر ہوتا
    ۔ ایک روز ایسی ہی ملاقات کسی کی مخبری پر ملک شہباز کی نظروں میں آگئ وہ عباس کا ہاتھ تھامے بیٹھی تھی جب کہ عباس اُسکی خوبصورت آنکھوں میں اپنے عکس کو دیکھنے میں مصروف تھا کہ ملک شہباز کسی آفت کی طرح اُن کے سر پر نازل ہوا ۔ ملک شہباز کو سر پر دیکھ کر دونوں کی رنگت ہلدی کی مانند ہوگئ اس سے پہلے کہ کچھ سوچا جاتا ملک شہباز کی ایک سفاک گولی عباس کی چھاتی میں سوراخ کر گئ تھی اور وہ وہیں ڈھیر ہو چکا تھا ۔ جب کہ مہرو کو گاؤں اور خاندان کی تمام لڑکیوں کیلۓ نشان عبرت کے طور پر گاؤں کی گلیوں میں گھسیٹ گھسیٹ کر حویلی کے اندر پہنچا دیا گیا۔۔

    مہرو کا جرم بہت بڑا تھا اُس نے صرف محبت نہیں کی تھی اپنے محبوب سے ملاقاتوں کا اھتمام کر کے ملکوں کی عزت کو گاؤں کی گلیوں میں روندنے کی کوشش کی تھی پھر ملک اُسے کیسے معاف کر دیتا ؟ اُس روز کے بعد سے وہ تہ خانے میں تھی اُسے قید تنہائ کی سزا ملی ملازمہ آتی ، کھانا دیتی اور ایک لفظ کہے بغیر باہر آ جاتی اُس کے نازک مرمری پاؤں میں بیڑیاں باندھی گئ تھیں مہرو کی بیوہ ماں کی التجائیں معافی کی درخواستیں سب کچھ رائگاں گیا ۔ وہ سالوں سے قید تھی ۔ اُس کی آنکھیں سورج کی روشنی سے نامانوس ہو گئیں۔۔ رہائی کی اُمید میں اُسکے بال چاندی میں بدل گۓ ۔ اُس کی ہر رات تکلیف میں گزرتی چلی گئ ۔۔ وقت گزرتا گیا ملک شہباز بوڑھا ہونے لگا اُسکی اولاد جوان ہوتی گئ ۔ ملک کی خواہش تھی کہ سکندر کی طرح صاحبہ بھی اعلٰی تعلیم حاصل کرے اس دوران سکندر نے بھائی ہونے کا خوب حق ادا کیا اور اُسکی راہ میں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش کی۔۔

    گزرتے وقت کے ساتھ صاحبہ تعلیم کی عرض سے شہر منتقل ہو گئ ۔ شہر کی رنگینیوں نے اُسکی آنکھوں کو خیرہ کردیا یونیورسٹی کا مخلوط طرز تعلیم اور رنگین ماحول اُسکے من کو بھانے لگا دوسری لڑکیوں کی تیز طراری ، بولڈ ینس دیکھ کر اُسکی جھجک بھی ختم ہونے لگی وہاں اُسکا خوب دل لگ گیا گاؤں آتی تو اُسکی باتوں میں شہر کی خوشبو گُھلی ہوتی ملک اور ملکانی اُسکی باتوں سے خوب لطف اندوز ہوتے پھر وقت کی کرنی ایسی ہوئی کہ گاؤں آتی تو اُسکا دل شہر میں ہی لگا رہتا چھٹیوں میں بھی اگر گاؤں آتی تو شہر کی یادوں میں ہی مصروف رہتی اور اپنے کمرے میں گھسی رہتی ۔

    اُسکے عجیب رویے کو ملکانی نے محسوس تو کر لیا مگر وہ اپنی عزیز بیٹی کو جان نہ سکی ۔ کہتے ہیں کہ جس سے بےتہاشہ محبت ہو اُن پر ہی آنکھ بند کر کہ بھروسہ کیا جاتا ہے یہی حال یہاں بھی تھا ۔ ۔ ۔

    دوسری طرف شہر میں صاحبہ اُلجھنوں کا شکار تھی ۔ صاحبہ کی سب سے بڑی اُلجھن احمر تھا اُسکا کلاس فیلو ۔ احمر ایک کھاتے پیتے گھرانے کا خوبصورت اور ہینڈسم نوجوان تھا ۔ احمر صاحبہ کے من کو پہلی نگاہ میں ہی بھا گیا تھا مگر صاحبہ صنف نازک ہونے کی وجہ سے ہونٹوں پر قفل سجاۓ ہوۓ تھی کیونکہ اظہار میں پہل کرنا کسی صنف نازک کیلۓ امتحان سے کم نہیں ہوتا ۔ صاحبہ کو محسوس ہوتا تھا کہ وہ تنہا اس عشق کی آگ میں جل جل کر راکھ ہوجاۓ گی۔ ۔ ۔

    دوسری طرف احمر بھی اُس کی گرم نگاہوں کی تپش کو محسوس کر چکا تھا صاحبہ کی نگاہوں کی گرم جوشی نے احمر کے دل کی دُنیا ہی بدل دی تھی دوطرفہ لگی اس آگ کو ایک دن احمر کے اظہار محبت نے مزید بھڑکا دیا ۔

    احمر کے بے باک اور شدت اظہار نے صاحبہ کو ہر شے سے بے نیاز کردیا اُس کے دل سے ہر خوف ختم ہوگیا اب وہ دو تھے اور اُنکی بڑھتی ہوئی محبت ۔ صاحبہ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر احمر اُسکے گھر رشتہ بھیجے گا تو نتیجہ کیا ہوگا مہرو کا حال اُسکے سامنے تھا ۔ عشق کی آگ نے اُن دونوں عاشق و معشوق کو ایسا بے بس کر دیا کہ اُنہوں نے خاموشی سے ایک فیصلہ لے لیا۔ ۔ ۔ صاحبہ کے تھرڈ سمسٹر کے ایگزام ختم ہونے کے بعد چھٹیاں تھیں مگر دو دن گزر جانے کے باوجود جب وہ حویلی نہ پہنچی تو تیسرے دن جب ملک شہباز اور ملکانی نے پتہ کرنے کیلۓ صاحبہ کو فون کیا تو اُسکا نمبر بھی بند تھا۔ سکندر دوستوں کے ساتھ سیر و سیاحت کیلۓ دور کہیں گیا ہوا تھا اس لیے ملک شہباز کو صاحبہ کی تلاش کیلۓ اکیلے ہی شہر روانہ ہونا پڑا ۔ حویلی پر صاحبہ کی ماں اور دادی بھی پریشان تھیں کیونکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ وہ دن اور اگلا پورا دن ملک شہباز بھی غائب رہا سکندر حویلی آ چکا تھا مگر انجانے خوف سے حویلی کی عورتوں نے اُسے اس سب سے لاعلم رکھا ۔ اگلے روز شام کو دونوں باپ بیٹی کی واپسی ہوئی ۔ صاحبہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی اور گردن جھکی ہوئی تھی ۔ ملک شہباز نے حویلی میں داخل ہوتے ہی تمام ملازموں کو حویلی سے باہر بھیج دیا ۔ اب حویلی کہ اندر صرف مالکان تھے ملک شہباز ، سکندر اور تینوں عورتیں ۔

    صاحبہ دوڑتے ہوۓ ماں کے گلے لگ گئ اور ہچکیوں سے رونے لگی ۔ ملکانی : کیا بات ہے ملک صاحب ؟ سب خیریت ہے ناں ! ملکانی نے خوفزدہ لہجے میں پوچھا ۔ تین دن کی اذیت ملک شہباز کے چہرے پر رقم تھی ۔ صاحبہ ہاسٹل سے احمر کے ساتھ بھاگ گئ تھی اور ملک تین دن ڈھونڈنے کے بعد اُسے احمر کے گھر سے زبردستی لے کر آیا تھا ۔ سکندر باپ کی طرف جاتے ہوۓ ، ، کیا بات ہے بابا ، بتائیں ناں ؟ تبھی صاحبہ ماں سے دوڑ کر باپ کے قدموں میں آ گری ۔ مم ۔۔ مجھے معاف کر دیں ۔ مجھ سے غلطی ہو گئی بابا میں احمر کے پیار میں اندھی ہوگئ تھی ۔ ہمیں معلوم تھا بابا کہ آپ نہیں مانیں گے اسلیے ! بابا آپ کو اللہ کا واسطہ ۔ ۔۔ مم ۔۔ مجھے معاف کردیں ۔۔۔۔۔۔ اُسکا کانپتا وجود اور اُسکے جملے سب کے سامنے معاملے کو عیاں کر گۓ ۔

    ملک شہباز کی بیوہ ماں کے کانوں میں اپنی بیٹی کی سالوں پہلے کی التجائیں ،چیخیں گھونجنے لگیں ۔ بھائ ۔۔۔ بھائ ! بھائ مجھے معاف کردو ۔ مجھ سے غلطی ہو گئ ہے ۔ آپ مجھے جان سے مار دیں مگر یہاں قید نہ کریں ۔۔۔ اللہ کا واسطہ ہے آپ کو ۔ مہرو کی چیخیں التجائیں اُس بوڑھی عورت کہ اردگرد تیزی سے گونجھنے لگیں ۔ ماضی آنکھوں کے سامنے آ گیا ۔۔۔ ایسا ہی ایک دن تھا ۔۔ ماں کو بیٹی کی چیخیں التجائیں اندر سے کاٹنے لگیں بوڑھے چہرے سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے درد سے اُن کا کلیجہ پھٹ جاۓ گا ۔ حسرت و یاس کی تصویر بنی وہ دیکھنے لگیں کہ اُن کا غیرت مند بیٹا ، یہ غیرت مند باپ اب کیا فیصلہ کرتا ہے۔ ۔ ۔

    سکندر کا جوان خون جوش مار رہا تھا اُس نے سر جھکاۓ باپ کے قدموں سے لپٹی صاحبہ کو چُٹیا سے پکڑ کر کھینچا اور زور کا تھپڑ لگایا وہ فرش پر گِر گئ ملکانی کی چیخیں بلند ہونے لگیں ۔ سکندر جوش کے ساتھ دیوار کے ساتھ لٹکی بندوق اُتار کر آگے بڑھا ۔ تبھی ملک شہباز کی سرد آواز بلند ہوئی۔ ۔ ۔

    ملکانی ! اسے کمرے میں لے جاؤ ٹھیک ایک ہفتے بعد اسکی احمر کے ساتھ رُخصتی ہو گی ۔ اُسی احمر کے ساتھ جس کے گھر سے ملک شہباز صاحبہ کو زبردستی لے کر آیا تھا ۔ اس فیصلے سے سکندر بُلبلا اُٹھا جبکہ مہرو کی ماں کی روح تک چلا اُٹھی ۔۔۔۔۔ " اس نے ہماری عزت روندی ہے اور تم اسے ۔۔۔۔۔

    ملک شہباز " کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے ۔ بہتری اسی میں ہے کہ "

    اُسکی آواز ادھوری رہ گئ ۔ ملک شہباز ! مہرو کی ماں کی آواز بلند ہوئی،، جس میں بڑی تیزی تھی ۔ اس لڑکی نے شہر میں ہماری عزت روند دی ۔ گھر سے بھاگی ہے اسے بھی گلیوں میں روند کر لاؤ اور تہ خانے میں قید کرو تا کہ خاندان کی لڑکیاں خوف کھائیں ۔ اسے بھی نشان عبرت بناؤ ۔ اُس ماں کا مطالبہ سفاک تھا کچھ لمحوں کیلۓ ملک شہباز سناٹے میں آ گیا ۔۔ماضی اُس کہ سامنے حال بن کر آ کھڑا ہوا ۔ دادی ٹھیک کہتی ہے اس کہ ساتھ یہی ہونا چاہیے بلکہ اس سے بھی بُرا ۔ مہرو پھوپھو نے تو بس ملاقات کی تھی ۔۔جب کہ یہ ۔۔۔۔ سکندر پھر صاحبہ کی طرف لپکا مگر ملک سکندر بیچ میں دیوار بن کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ سکندر تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے ؟

    " یہ میری بیٹی ہے اور اسکا باپ ابھی زندہ ہے فیصلہ ہو چکا " ملک شہباز جھٹکے سے آگے بڑھنے لگا تھا کہ لاچار ماں اُس کہ راستے میں حائل ہوگئ ۔ یہ ناانصافی ہے ۔۔ میں ۔۔۔ میری مہرو ۔۔۔ وہ صاحبہ وہ ٹوٹے الفاظ ادا کرنے لگیں مگر ملک کے فیصلے کو بدلنا ناممکن تھا ۔ اُس نےایک نظر ماں کی طرف دیکھا ۔ شکستہ ، ٹوٹی ہوئ ۔ ناانصافی پر سراپا سوال ۔۔۔ ملک ماں کو پیچھے کرتا آگے بڑھ گیا جب کہ ماں کے کانوں میں یہ الفاظ گونج رہے تھے ۔ ۔

    " یہ میری بیٹی ہے اور اسکا باپ ابھی زندہ ہے " اس گونج کہ دوران ہی مہرو کی ماں کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ گر پڑیں، اور پتھرائی ہوئی بے دم نگاہیں اک منصف باپ اور سفاک بھائی کے قدموں سے لپٹتی ہوئی سسکتی رہیں ۔ ۔!

     
  2. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

Share This Page