1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

اس رات

Discussion in 'Design Poetry' started by PRINCE SHAAN, Mar 6, 2014.

  1. (اس رات نے مڑ كر ديكھا تھا)

    ہم دور كسي اك وادي ميں
    لا وارث سے كچے گھر ميں
    تنها رات كو سوچ رهے تھے
    ہم جيسے خود كو بھول گئے
    اس رات بڑي بے چيني تھي

    كچھ مٹي كي بو نے ستايا
    اور آگ لگا دي قطروں نے
    اس گرتے گرتے پاني كے
    ہم دل كے پھوڑے پھوڑ گئے
    اس رات ميں چاند كا پهرا تھا

    دستك دي اك دوشيزه نے
    خود آكر جب دروازے پر
    ہم تھام كے اس كے هاتوں كو
    جذبات كي گرهيں كھول گئے
    اس رات بڑا سناٹا تھا

    اس رات بھي بركھا برسي تھي
    ہم پہلے هي بے چين سے تھے
    ہمزاد كي بھي كچھ مرضي تھي
    جسم اپني باتيں بول گئے
    اس رات سمے كي مهلت تھي

    پھر ظلمت ظلمت عالم ميں
    اور سهمي سهمي سانسوں ميں
    اس حسن كا ايسا نور كھلا
    ہم ساري شرطيں توڑ گئے
    اس رات بلا كي وحشت تھي

    پھر آب بقا كا دور چلا
    اور دور بھي ساري رات چلا
    اور بوسوں كے تكرار هوئے
    ہم رات كو پيچھے چھوڑ گئے
    اس رات ميں ايسي راحت تھي

    پھر نازك نازك لمحوں ميں
    رخساروں ميں ان زلفوں ميں
    ان كمسن گهري لهروں ميں
    ہم بچتے بچتے ڈوب گئے
    اس رات نے مڑ كر ديكھا تھا
    [​IMG]
     
    Last edited by a moderator: Dec 30, 2017
  2. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    $ $ $ Nice Sharing $ $ $
    ~ Keep It Up ~
     
  3. ~Asad~

    ~Asad~ Moderator

    بہت عمدہ اپ کا بہت شکریہ کام جاری رکھے مزید انتظار رہے گا
     
  4. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan Staff Member

    درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے
    ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
    ہر بُنِ مو سے ٹپکنا چاہا
    اور کہیں دُور ترے صحن میں گویا
    پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دُھل کر
    حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا
    میرے ویرانہِ تن میں گویا
    سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کر
    سلسلہ وار پتا دینے لگیں
    رخصتِ قافلہِ شوق کی تیاری کا
    اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
    ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
    درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
    ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا۔۔۔
     
  5. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
    ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
    درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
    ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا۔۔۔
    .........................................
    buhot hi khoob janab
     
  6. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    Ishtraq kurney ka shukriya
     

Share This Page