1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ہابیل و قابیل کی داستان

Discussion in 'History aur Waqiat' started by Naveed Ahmed, Mar 3, 2013.

  1. ہابیل و قابیل کی دااستان قرآن میں سورہ مائدہ میں بیان ہوئی ہے۔ یہ قصہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا ہے ۔ ان میں سے ایک کا نام ہابیل اور دوسرے کا قابیل تھا۔ قابیل عمر میں بڑا تھا اور کھیتی باڑی کیا کرتا تھا۔ یہ مزاج کے اعتبار سے تیز اور فطرتا برائی کی جانب راغب تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی ہابیل اس کے برعکس تھا۔وہ نیک سرشت ، متقی اور منکسر المزاج تھا۔اس کاپیشہ وہ بھیڑ بکریاں چرانا تھا۔
    ایک دن اللہ کی جانب سے دونوں کو حکم ہوا کہ وہ اللہ کے حضور قربانی پیش کریں تاکہ علم ہوجائے کہ کون اللہ کے نزدیک زیادہ متقی اور مقبول ہے۔قدیم زمانے میں قربانی کی قبولیت کی یہ علامت ہوتی تھی کہ جس کی قربانی کو آسمان سے ایک آگ آکر جلادے اس کی قربانی اللہ کے نزدیک قبول ہوگئی ہے۔چنانچہ دونوں نے قربانی پیش کی۔ ہابیل یوں بھی نیک سیرت اور اللہ سے ڈرنے والا انسان تھا ۔چنانچہ اس نے نیک نیتی کے ساتھ خالص اللہ کی رضا کے کے لئے اپنے گلے کی بہترین پہلوٹھی کی بھیڑ اللہ حضور قربا ن کرکے پیش کردی۔ دوسری جانب قابیل ناقص اور ردی قسم کا اناج لے کر آیا ۔ اس کے دل میں یہ بات تھی کہ اگر قربانی مقبول ہوگئی تو اس اناج نے ویسے بھی جل جانا ہے تو اچھی فصل کو برباد کرنے کا کیا فائدہ۔
    اب دونوں دور ہٹ کر خداکے فیصلے کا انتظار کرنے لگے۔پھر اچانک آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور اس نے ہابیل کی قربان کی ہوئی بھیڑ کو جلاڈالا جبکہ قابیل کا اناج جوں کا توں پڑا رہا۔ یوں فیصلہ ہوگیا کہ خدا ہابیل اور اسکی قربانی سے راضی اور قابیل سے ناخوش ہے۔ جب قابیل کی قربانی مردود ہو گئی تو اس کا طیش انتقام میں بدل گیا اور اس نے علی الاعلان اپنے بھائی ہابیل کو جان سے مارنے کی دھمکی دے دی ۔ اس کا جواب ہابیل نے بڑی برد باری سے یہ دیا ۔
    ” اگر تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ بلکہ تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ پرہیزگاری کی راہ اختیار کرتے اس صورت میں شاید تمہاری قربانی قبول ہو جاتی اور اگر تم مجھے مارنے پر ہی تلے ہوئے ہو تو میرا ایسا قطعاً کوئی ارادہ نہیں ہے میں بہرحال اس معاملہ میں ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا (یعنی پہل نہیں کروں گا)کیونکہ میں اسے بہت بڑا ظلم سمجھتا ہوں”۔قابیل نے اپنے بھائی کی باتیں سنیں تو کچھ عرصہ ان پر غور کرتا رہا، لیکن بالآخراس کے نفس اور شیطان نے سبز باغ دکھا کر اس بات پر آمادہ کر ہی لیا کہ وہ اپنے بھائی کا قصہ پاک کر دے اور اپنی حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرے۔ پھر ایک دن موقع پاکر قابیل نے اپنے بھائی کو مار ڈالا۔
    لیکن اب یہ مسئلہ تھا کہ وہ اس لاش کو کیا کرے اور کہاں چھپائے کیونکہ لاش میں سڑانڈ اور بدبو پیدا ہونے لگی تھی۔ اسی اثنا میں اس نے دیکھا کہ ایک کوا اپنے مردہ بھائی کی لاش کو زمین میں دفن کررہا ہے۔ اس وقت وہ سوچنے لگا کہ مجھ میں اس کوے جتنی بھی عقل نہیں۔ بہرحال اس نے بھی زمین میں گڑھا کھود کر اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں دبا دیا۔ جب وہ لاش دفن کرچکا تو اب اس کا نفس اسے ملامت کرنے لگا کہ ایک نیک سیرت اور شفیق بھائی اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا اور اس بات پر بھی اسے ندامت ہوئی کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے انتہائی وحشیانہ حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔
    قرآن کے بیان کے مطابق ہابیل اور قابیل میں اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب ہابیل کی قربانی کو قبول کرلیا گیا اور قابیل کی کوشش ناکام ہوگئی۔ چنانچہ قابیل اپنے بھائی سے نفرت کرنے لگا یہاں تک کہ اس کو مارنے کے درپے ہوگیا۔ جبکہ اس بارے میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ہابیل اور قابیل میں اختلاف کی بنیادی وجہ ایک لڑکی تھی جو قانونی طور پر ہابیل کے نکاح میں آنی تھی لیکن قابیل اس پر حق جتانا چاہ رہا تھا۔ اس واقعہ کی کوئی اصل نہیں اور یہ محض اسرائلی روایات سے ہمارے ہاں آگیا ہے۔اس ضمن میں معتدل رویہ یہی ہے کہ ہم خود کو قرآن کے بیان تک ہی محدود رکھیں۔
    مرکزی خیال
    اس قصے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ تقویٰ اور خوف خدا ہے، محض انسان کی خواہش پر خدا کی خوشنودی حاصل نہیں ہوتی۔ نیز حسد کی آگ انسان کے اپنے آپ کو جلادیتی اور اسے دنیا و آخرت میں برباد کرکے چھوڑتی ہے۔
    تذکیر ی اور اخلاقی پہلو
    ۱۔ اللہ کی رضا کا حصول
    اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس سے راضی ہوجائے تو اس کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا رہے اور انتہائی نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ اللہ کے حضور اپنی جان اور اپنے مال کو پیش کردے۔آج ہم محض کلمہ پڑھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ جنت ہمیں مل جائے گی۔حالانکہ جنت کا حصول اللہ کو راضی کرنے پر منحصر ہے اور اللہ کی رضا ایمان و عمل صالح اور قربانی پر منحصر ہے ۔
    ۲۔ قربانی میں اخلاص
    ہابیل اللہ کے حضور بہترین قربانی کا سامان لایا جبکہ قابیل نیت میں فتور کی بنا پر ردی اناج لایا۔ چنانچہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنا بہترین اثاثہ اس کی راہ میں لگائیں ناکہ چند پھٹے ہوئے نوٹ،کچھ پرانے کپڑے اور ردی سامان اس کی خدمت میں پیش کریں۔ قرآن میں بھی سورہ آل عمران میں بیان ہوتا ہے کہ “تم نیکی کو ہرگز نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی قیمتی شے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو”۔
    ۳۔ حسد کی آگ
    قابیل نے جب یہ دیکھا کہ اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی اور ہابیل کی قبول ہوگئی ہے تو اسے اپنے بھائی سے حسد ہوگیا۔ حسد کے لغوی معنی کسی دوسرے شخص کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اس کے نقصان کے درپے ہونا ہے۔ چنانچہ بجائے اس کے کہ قابیل اپنی کوتاہیوں کی جانب نگاہ کرتا، وہ ہابیل سے نفرت اور حسد کرنے لگا۔اسی حسد کی آگ میں جلتے ہوئے اس نے ہابیل کو قتل کردیا۔آج کے دور میں ہم ترقی یافتہ اقوام کا اعلیٰ معیار زندگی دیکھتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اس سے سبق حاصل کریں ، ہم ان سے حسد کرنے لگ جاتے ہیں یہاں تک کہ ہم اپنی تمام برائیوں کا ذمہ دار بھی انہی قوموں کو ٹہرا کر حسد کی آگ میں جلتے کڑھتے رہتے اور اپنی غلطیاں سدھارنے سے قاصر رہتے ہیں۔
    ۴۔جرم چھپانے کی کوشش
    قابیل نے اپنا جرم چھپانے کی کوشش کی ۔ حالانکہ وہ یہ بھول گیا کہ انسان کتنا ہی خود کو دنیا کی نظروں سے چھپالے، وہ خدا کی نگاہوں سے نہیں بچ سکتا۔ آج بھی انسان جرم کو چھپا کر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے خود کو جبکہ ابھی فیصلے کا دن آنا باقی ہے۔
    ۵۔ احساس گناہ
    قابیل نے حسد اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہوکر اپنے بھائی کو تو قتل کردیا لیکن بعد میں اسے پچھتاوا ہوا کہ یہ اس نے کیا کیا۔ اکثر جرائم جذبات کے تحت ہی ہوتے ہیں۔ اگر انسان کچھ عرصے کے لئے اقدام کو موخر کردے تو گناہ سے بچا جاسکتا ہے۔نیز اس سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ نیکی اور بدی کی بنیادی تعلیم ہماری فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے اور اگر ہم ضمیر کی آواز کو نہ دبائیں تو بہت سارے گناہوں سے بچ سکتے ہیں۔
    ۶۔ آج کا دور
    اگر ہم آج اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو پاکستان اور بالخصوص کراچی میں آئے دن قتل کی وارداتیں عام ہوگئی ہیں۔ لیکن آج کا قاتل قابیل کے مقابلے میں زیادہ سفاک ہے کہ اسے کوئی احساس جرم نہیں ہوتا۔ جبکہ قرآن میں قتل عمد کی سزا ابدی جہنم بتائی گئی ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس نے ایک انسان کو مارا اس نے ساری انسانیت کا قتل کیا اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی سیاسی اور سماجی راہنما انسانی جان کی حرمت پر لوگوں کو درس دیں اور اپنے پیروکاروں کو اس فعل سے ہر صورت میں باز رکھنے کی سعی
    کریں۔
     
  2. Ali

    Ali ITU Lover

    Jazakaallah buat umdaa sharing ke ha ali bhaiii apne sukriaa
     

Share This Page