1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. آئی ٹی استاد عید آفر
    Dismiss Notice

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'History aur Waqiat' started by PRINCE SHAAN, Apr 3, 2014.

History aur Waqiat"/>Apr 3, 2014"/>

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest


    [​IMG]

    حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم

    حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف جب بارہ برس ہوئی تو اس وقت حضرت ابو طالب نے تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر کیا۔ حضرت ابو طالب کو چونکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بہت ہی والہانہ محبت تھی اس لیے وہ آپ کو بھی اس سفر میں اپنے ہمراہ لے گئے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت سے قبل تین بار تجارتی سفر فرمایا۔ دو مرتبہ ملک شام گئے اور ایک بار یمن تشریف لے گئے، یہ ملک شام کا پہلا سفر ہے اس سفر کے دوران بُصریٰ میں بُحیریٰ راہب (عیسائی) کے پاس آپ کا قیام ہوا۔ اس نے توراۃ و انجیل میں بیان کی ہوئی نبی آخر الزماں کی نشانیوں سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ اس نے آپ کے قافلہ والوں کی دعوت کی اور ابو طالب سے کہا کہ یہ سارے جہان کے سردار اور رب العالمین کے رسول ہیں، جن کو خدا نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شجر و حجران کو سجدہ کرتے ہیں اور ابر ان پر سایہ کرتا ہے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے۔ اس لئے تمہارے اور ان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ اب تم ان کو لے کر آگے نہ جاؤ اور اپنا مال تجارت یہیں فروخت کرکے بہت جلد مکہ چلے جاؤ۔ کیونکہ ملک شام میں یہودی لوگ ان کے بہت بڑے دشمن ہیں۔ وہاں پہنچتے ہی وہ لوگ ان کو شہید کر ڈالیں گے۔ بحیرٰی راہب کے کہنے پر حضرت ابو طالب کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ انہوں نے وہیں اپنی تجارت کا مال فروخت کر دیا اور بہت جلد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ واپس آ گئے۔ بُحیریٰ راہب نے چلتے وقت انتہائی عقیدت کے ساتھ آپ کو سفر کا کچھ توشہ بھی دیا۔
    (ترمذی ج۲ باب ماجاء فی بدء نبوة النبی صلی الله تعالیٰ عليه وسلم)


     
  2. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    [​IMG]
    اپنا قیمتی ٹائم نکال کر ہمارے ساتھ
    شیئر کرنے لے لیے شکریہ۔
    [​IMG]
     
  3. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Management
    • 38/49

    Jazak Allah
     
  4. Silent_Love
    Online

    Silent_Love Guest

    ‎جزک اللہ‎​
     
  5. ahmadkhan12
    Offline

    ahmadkhan12 Regular Member
    • 6/8

    MAsha Allah


    Hidden Content:
    یہ لنک دیکھنے کے لیے فورم پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں
     
  6. *~Adorable~*
    Offline

    *~Adorable~* Newbi
    • 1/8

    Jazak Allah
     
  7. ~Asad~
    Offline

    ~Asad~ Management
    • 36/49

    جزاک اللہ بہت اچھے
     

Share This Page