1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

جنگ بندی ختم: فورسز پر پہلا حملہ، مذاکرات ک&#1

Discussion in 'News & Views' started by karwanpak, Apr 18, 2014.

  1. karwanpak

    karwanpak Regular Member

    پشاور (کاروان ڈیسک) طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پشاور اور خیبر ایجنسی کی سرحد پر فرنٹیئر روڈ پر سکیورٹی فورسزکے کانوائے پر حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے۔حملے میں گاڑی کوبھی شدید نقصان پہنچا۔
    علاقے میں چار دن سے نافذ کرفیو آج ہی اٹھایا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ علاقے میں موجود مسلح عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے کانوائے کو فائرنگ کر کے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور اس میں سوار ایک اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لئے سی ایم ایچ پشاور لایا گیا۔
    یاد رہے کہ اس علاقے میں چاردن پہلے درہ آدم خیل اورایف آر پشاورمیں عسکریت پسندوں کے ایک مبینہ کمانڈر جنگریز کو سکیورٹی فورسز نے چار ساتھیوں سمیت نشانہ بنایا تھا جس کے بعد سے علاقے کو سیل کر کے یہاں کرفیو نافذ تھا اور یہ کرفیو آج ہی صبح اٹھایا گیا تھا۔
    ادھر خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں ایف سی کے اسلحہ ڈپو میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسلحہ ڈپو میں آگ حادثاتی طور پر لگی۔ اچانک لگنے والی آگ سے چھوٹے ہتھیاروں کو نقصان پہنچا اور ڈپو میں کئی دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کی آواز سے لنڈی کوتل اور گرد و نواح کے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    عسکری ذرائع کے مطابق اچانک آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ ہو سکتی ہے۔ امدادی کارکنوں نے بروقت کارروائی کر کے آگ پر فوری قابو پا لیا۔ آگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
    تاہم مقامی ذرائع کے مطابق اسلحہ کے ذخیرے میں آگ اس وقت لگی جب شدت پسندوں کی طرف سے رات کی تاریکی میں قلعے پر مارٹر اور راکٹ لانچروں سے حملہ کیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رات گئے تک قلعے کے اندر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایک شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
    ادھر کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع نہ ہونے پرکچھ قوتیں اسکی آڑمیں حملے کرسکتی ہیں۔ عوامی مقامات پر حملوں سے تحریک طالبان کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم جنگ بندی میں توسیع نہ ہونے پر حکومتی مقامات پر دفاعی حملے ممکن ہیں۔
     
  2. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member


    Nice Sharing


    Keep It Up

    Thanks 4 Nice & Beautiful Thread
     

Share This Page