1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

غیبت


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'News & Views' started by Net KiNG, Apr 24, 2014.

News & Views"/>Apr 24, 2014"/>

Share This Page

  1. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    آج سے دو سال پہلے میں نے ایک خبر کو سامنے رکھتے ہوئے ایک تحریر لکھی تھی۔

    2011 ء میں بھکر کے علاقے میں ایک لرزہ خیز خبر سامنے آئی تھی جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد قبرسے مردے نکال کر کھانے کے جرم میں گرفتارکئے گئے تھے

    خبر کی تفصیل میں جانے کے بجائے میں اپنی دو سال پرانی لکھی ہوئی تحریر آپ سے شیر کر رہی ہوں۔ اور مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ آج دو سال بعد بھی مجھے اسی موضوع پر قلم اٹھانا پڑ رہا ہے اور اس سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ حالات و واقعات میں کوئی تبدیلی نہیں ہے آج دو سال بعد وہ دونوں مجرم رہا ہونے کے بعد دوبارہ اسی مکروہ عمل پراتر آئے ہیں، سو سے زیادہ مردہ لوگوں کا گوشت کھانے کا اعتراف کرنے پر بھی سزا صر ف دو سال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وجہ یہ بتائی گئی کہ اس طرح کے جرم کی قانون میں کوئی سزا نہیں بنائی گئی ان مجرموں کو سزا دینے کے لئے قانون میں ترمیم کرکے کوئی قانون بنانا پڑے گا۔

    یہ ٹھیک ہے کہ ایسا قبیح عمل شاید کسی انسانی ذہن میں نہ آ سکے اسی وجہ سے ایسا کوئی قانون نہیں بنایا گیا ہوگا لیکن دو سال پہلے جب یہ انسانیت کا یہ مکروہ عمل ہمارے سامنے آیا تھا اس کے بعد بھی کیا قانون کی کتاب میں اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا ۔ کیا یہ عمل اتنا ہی معمولی تھا کہ مجرموں کو عارضی سزا سنا کر مطمئن ہو کر بیٹھا جائے۔ان دو سالوں میں جب جب میں نے اپنی ڈائری کھولی تو چند لمحوں تک یہ تحریر میری توجہ ضرور حاصل کرتی رہی اور بہت ساری خبروں کے ساتھ ساتھ میں ہر بار یہ ہی سوچتی تھی کہ نہ جانے ان مجرموں کا انجام کیا ہوا ہوگا۔اور بالآخرمیرا انتظار ختم ہوا اور کل کی تازہ ترین خبر پھر میری نظروں کے سامنے آ گئی خبر سننے کے بعد میری تکلیف اس وقت بڑھ گئی جب وجہ یہ معلوم ہوئی کہ ہماری قانون کی کتاب میں ایسے مجرموں کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ میں قانون نہیں جانتی نہ ہی میں نے قانون پڑھا ہے مگر بحیثیت مسملمان میرا ایما ن ہے اورمیرا مذہب یہ کہتا ہے کہ جب عقل کام کرنا چھو ڑ دے جب تمہیں کسی سوال کا جواب نہ ملے تو میرے رب کی طرف سے دیا گیا تحفہ میرے رب میرے سوہنے رب کی میرے اللہ کی کتاب کھول کے دیکھ لو تمہیں تمہارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔

    دو سال پہلے جب یہ خبر سامنے آئی تو میرے ذہن نے کیا سوچا اور میرے قلم نے کیا لکھا آپ کے لئے۔

    دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ

    بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیرِ زمیں ہے

    علامہ اقبال نے ایک ایسے کسان کی مثال دی ہے جو رات دن ہل چلا کر زمین کا سینہ چاک کر رہا ہے۔مگر کس لئے؟

    اس رات دن کی محنت کے باوجود اس کے تن پر کپڑے تک نہیں، زرد رنگت، پچکے گال ویران آنکھیں،خاک میں لتھڑا ہوا گویا ایک ایسا مردہ جسے قبر نے بھی قبول نہ کیااور وہ ننگ دھڑنگ باہر نکل آیا اور اب اس لئے زمین کھود رہا ہے کہ کسی طرح اپنا بوسیدہ کفن ہی حاصل کرلے کہ استحصالی معاشرے میں یہ محنت اسے ایک کفن سے زیادہ کچھ دے بھی نہیں سکتی۔

    کفن تو مل جائے گا لیکن وہ کھائے گا کیا؟ اپنے ہی کسی مردہ بھائی کا گوشت؟ شاید نہیں۔کیونکہ وہ تو خود مرا ہوا ہے اور مردوں کو کھانے کی حاجت نہیں ہوتی۔ یہ کام صرف زندہ انسان ہی کر سکتا ہے۔

    اور زندہ انسان کی بھوک کوئی غذا ہی مٹا سکتی ہے۔مگر گذ شتہ دو روزپہلے یہ کیسی خبر میں نے سنی جو زندگی میں اس سے پہلے نہ کبھی آنکھوں نے اس میڈیا کے دور میں دیکھی نہ دادی نانی نے کہانی کی صورت ہم تک پہنچائی۔

    یہ نہ تو کسی بچی کے ساتھ زیادتی کی خبر تھی، نہ ہی کسی باپ کے ہاتھوں بچوں کے قتل کا افسانہ، بم بلاسٹ یا خودکش دھماکے کی فلم، پھر یہ کون سی خبر تھی۔خبرکی تفصیل کچھ یوں تھی کہ

    بھکر کے ایک علاقے میں ایک ایسا گھرانہ پکڑا گیا ہے۔جو مردے قبر سے نکال کر ان کا سالن بنا کر کھاتا ہے۔گذشتہ رات ایک کینسر کی چوبیس سالہ مریضہ سائرہ جب انتقال کر گئی تو اسے قریبی قبرستان میں دفنا دیاگیا۔دوسرے دن جب اہل ِخانہ فاتحہ کے لئے گئے تو مردہ قبر میں سے غائب تھا۔اور قبر کھلی ہوئی تھی،کھوجیوں کے ذریعے پتہ لگایا گیا تو ایک گھر کی نشاندہی ہوئی۔تلاشی پر اس گھر سے لڑکی کی لاش ایک ٹانگ کے بغیر ملی اور ڈھائی سو کفن برآمد ہوئے۔گھر کے مکین نے اعتراف کیا کہ ہم قبر سے مردہ چرا کر اس کا سالن بنا کر کھاتے ہیں، ویڈیو میں اس لڑکی کی ٹانگ کا بنایا گیا سالن بھی دکھایا گیا۔اس کے ساتھ ہی اس ملزم نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ہم زیادہ تر مردہ بچے اور کتے کھاتے ہیں۔

    نظیر اکبر آبادی نے کسی جگہ کہا تھا

    مرنے میں آدمی ہی، کفن کرتے ہیں تیار

    نہلا دھلا اٹھاتے ہیں، کاندھے پہ کر سوار

    کلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں، روتے ہیں زار و زار

    سب آدمی ہی کرتے ہیں، مردے کا کاروبار

    اور وہ جو مر گیا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

    میں اس وقت سے یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اس واقعے کا پس منظر کیا ہوگا؟

    خبر میں ملزم کے نفسیاتی مریض ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا۔ لیکن گھر کے باقی افراد جس میں ایک صنفِ نازک لڑکی بھی شامل تھی وہ لوگ؟؟ کیا سارا گھرانہ نفسیاتی مریض ہوگا؟

    کیا گھر کے حالات؟، بھوک؟، مردہ یا حرام گوشت کا مزہ؟

    وہ کون سی وجوہات تھیں جو زندگی میں نہ بھلانے والا یہ واقعہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔میں تو ابھی حج مبارکہ والے واقعے سے ہی نہیں نکل سکی تھی کہ یہ واقعہ سامنے آگیا۔

    کیا ہم نے اس رزاق پر توکل کرنا چھوڑ دیا ہے جس کا فرمان ہے کہ میں کیڑے کو بھی پتھر میں رزق فراہم کرتا ہوں۔زمین پر چلنے والے ہر جاندار کے رزق کا کفیل وہ ہی ہے۔رزق دینا رزاق کا عمل ہے۔اس زات سے ہم کب اتنے مایوس ہو گئے کہ ایسا بھیانک عمل کرنے پر اتر آئے۔

    یہاں مجھے منصور بن حلاج کا وہ واقعہ یاد آیا جب چار سو حاجیوں کے ساتھ وہ پیدل حج کے سفر پر نکلے سفر کی تھکان اور مستقل پیدل چلنے سے آپ کے ساتھیو ں نے آگے چلنے سے انکار کیا آپ خود تو فاقہ کشی کے عادی تھے مگر اپنے ساتھیو ں کی حالت دیکھ کر انہوں نے سب سے کہا کہ اپنے اپنے رومال اپنے آگے بچھا لو۔سب ساتھی حیران ہوئے کہ اس جنگل بیابان میں آپ غذائی سہولیات کہاں سے لائیں گے تو آپ نے کہا اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اپنے اپنے دستر خوان بچھا لو۔ سب ساتھیو ں نے حیران ہو کر کہا کہ اگر آپ کھلانا ہی چاہتے ہیں تو ہمیں ہماری مرضی کی چیز کھلائیے۔آپ نے پوچھا کیا کھانا ہے تو بیک وقت کئی درویشوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ شیخ بہت دنوں سے سری نہیں کھائی۔

    آپ نے کہا صف بندی کر لو۔اس کے بعد آپ ہاتھ پیچھے کرتے اور جب ہاتھ سامنے لاتے تو اس میں سری کا سالن اور گرم گرم دوروٹیاں ہوتیں۔اسی طرح آپ ہر درویش کے آگے کھانا رکھتے رہے۔سب نے سیر ہوکر کھایا اور حیران ہو کر آپ سے دریافت کیا کہ اس جنگل بیابان میں اتنے لوگو ں کا کھانا۔

    آپ نے پوچھا تمھارے پیٹ بھر گئے۔

    دوسرے درویش نے عرض کیا کہ شیخ بھوک تو مٹ گئی مگر حیرت بڑھ گئی۔

    حضرت منصور حلاج نے کہا حیرت کا کیا ہے جب تک زندہ ہو حیرت تو بڑھتی ہی رہے گی۔یہ اس کی رزاقی کا ادنیٰ ترین کرشمہ تھا۔وہ اپنے بندوں کو ایسی جگہ سے رزق فراہم کرتا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

    اس بات سے بالا تر ہو کر کہ منصور بن حلاج کو آپ شعبدہ باز مانتے ہیں یا تصوف کی نگاہ سے ایک درویش۔

    لیکن میرا مقصد یہاں صرف اس یقین کا احساس دلانا ہے کہ جب وہ رزاق جنگل بیابان میں اپنے بندوں کو ان کی پسندیدہ غذا فراہم کر رہا ہے تو کیا اس انسانو ں کے جنگل میں وہ بندے کی استطاعت سے بڑھ کر اسے بھوکا رکھ سکتا ہے؟

    ہم کیوں اس یقین سے محروم ہو گئے ہیں۔ہم نے رزق کے پیچھے رزاق کو فراموش کر دیا۔ ہم کیوں یہ بھول گئے کہ آسما نو ں سے مصفا اور مطہر پا نی کی با رش کر نے والا خا لق رزق کی ترسیل کے وسیع سلسلے رکھتا ہے۔

    اگر اس واقعے کا دوسرا پہلو یہ دیکھا جائے کہ ان ملزمان کے منہ حرام گوشت کا ذائقہ لگ چکا ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ ذائقہ لگا کیسے۔پہلی دفعہ کیسے یہ مکروہ عمل کیا گیا ہوگا۔جب کہ کھانے والا اس کے ذائقے سے نا آشنا ہے۔

    کیا اس کا ذمہ دار ہمارا معاشرہ ہے۔

    حدیث شریف ہے کہ اگر تمھارا پڑوسی بھوکا ہے تو تم پر کھانا حرام ہے

    کیا بھکر کے اس رہائشی کے پڑوسیوں کو اندازہ ہوگا کہ اس کے گھر سے ملی دیوار کے مکین اپنی بھوک مٹانے کا کیا انتظام کر رہے ہیں؟

    شاید میرا قلم یا میر ی تحریر اس احساس کو آپ تک نہ پہنچا سکے جن کا شکار میں اس واقعے کے بعد ہو گئی ہوں۔سالن سامنے آ رہا ہے تو میری نگاہوں میں اس خبر میں دکھایا گیا سالن گھومنے لگتا ہے۔

    بھوک لگتی ہے تو یہ سوچ ستانے لگتی ہے کہ یہ بھوک کا احساس کیا اتنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

    کسی چیز کا ذائقہ محسوس کرتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ زبان کہ اس چھوٹے سے حصے میں کیا اتنی طاقت ہے کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صلب کر دے۔کیا خوب بات کہی تھی منصورحلاج نے کہ جب تک زندہ ہو حیرت تو بڑھتی رہے گی۔میں آج اسی حیرت کا شکار ہوں۔

    لیکن اگر یہ خبر پڑھ کر میر ی طرح آپ بھی کراہیت کا شکار ہیں تو زرا غور کریں کہ کیا اس بیماری میں ہمارے معاشرے کا ہر فرد مبتلا نہیں ہے۔ہم دن میں نہ جانے کتنی مرتبہ یہ مکروہ عمل دہراتے ہیں۔

    حدیث شریف ہے کہ

    ” کسی مسلمان کی اس کی غیر موجودگی میں غیبت کرنا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے“ صحابہ کرام نے آقائے دو جہاں سے سوال کیا ”یا رسو ل اللہ بیشک کسی میں وہ برائی ہو۔ فرمایا ”ہاں! یہی تو غیبت ہے۔

    کالم نویس؛۔غزالہ زید…
     
  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    bohat khoob
     

Share This Page