1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

وہ واقعی نبی ہے


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'History aur Waqiat' started by PRINCE SHAAN, May 8, 2014.

History aur Waqiat"/>May 8, 2014"/>

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest


    [​IMG]

    وہ واقعی نبی ہے

    حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، رات بھر سب لوگ چلتے رہے جب صبح کا وقت قریب ہوا تو پڑاو کیا ( چونکہ ہم تھکے ہوئے تھے ) اس لیے سب لوگ اتنی گہری نیند سو گئے کہ سورج پوری طرح نکل آیا ۔ سب سے پہلے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جاگے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ، جب آپ سوتے ہوتے تو جگاتے نہیں تھے تاآنکہ آپ خود ہی جاگتے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ بھی جاگ گئے ۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سرمبارک کے قریب بیٹھ گئے اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے ۔ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاگ گئے اور وہاں سے کوچ کا حکم دے دیا ۔ ( پھر کچھ فاصلے پر تشریف لائے ) اور یہاں آپ اترے اور آپ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ ایک شخص ہم سے دور کونے میں بیٹھا رہا ۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اس سے فرمایا : اے فلاں ! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تجھے کس چیز نے روکا ؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ پاک مٹی سے تیمم کر لو ( پھر اس نے بھی تیمم کے بعد ) نماز پڑھی ۔ حضرت عمر ان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند سواروں کے ساتھ آگے بھیج دیا ۔ ( تاکہ پانی تلاش کریں کیونکہ ) ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی ، اب ہم اسی حالت میں چل رہے تھے کہ ہمیں ایک عورت ملی جو دو مشکوں کے درمیان ( سواری پر ) اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے جا رہی تھی ۔ ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ملتا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ یہاں پانی نہیں ہے ۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے گھر سے پانی کتنے فاصلے پر ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن ایک رات کا فاصلہ ہے ، ہم نے اس سے کہا کہ اچھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو ، وہ بولی رسول اللہ کے کیا معنی ہیں ؟ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، آخر ہم اسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے ، اس نے آپ سے بھی وہی کہا جو ہم سے کہہ چکی تھی ۔ ہاں اتنا اور کہا کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے ( اس لیے واجب الرحم ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کے دونوں مشکیزوں کو اتارا گیا اور آپ نے ان کے دہانوں پر دست مبارک پھیرا ۔ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے اس میں سے خوب سیراب ہو کر پیا اور اپنے تمام مشکیزے اور بالٹیاں بھی بھر لیں صرف ہم نے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا ، اس کے باوجود اس کی مشکیں پانی سے اتنی بھری ہوئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا ابھی بہہ پڑیں گی ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے ( کھانے کی چیزوں میں سے ) میرے پاس لاؤ ۔ چنانچہ اس عورت کے لیے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں لا کر جمع کر دیں گئیں ۔ پھر جب وہ اپنے قبیلے میں آئی تو اپنے آدمیوں سے اس نے کہا کہ آج میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ ( اس کے ماننے والے ) لوگ کہتے ہیں ، وہ واقعی نبی ہے ۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کے قبیلے کو اسی عورت کی وجہ سے ہدایت دی ، وہ خود بھی اسلام لائی اور تمام قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا ۔


    (صحیح بخاری )

     
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    :tmw:
    ماشا اللہ بہت عمدہ اشتراک ہے۔جزاک اللہ

    [​IMG]
     
  3. farooque102
    Offline

    farooque102 Newbi
    • 6/8

    zbar 100 SUBHANALLAH
     
  4. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    جزاک اللہ خیرا
     
  5. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    Jazak Allah
     
  6. ~Asad~
    Offline

    ~Asad~ Regular Member
    • 36/49

    جزاک اللہ بہت اچھے
     

Share This Page