1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت علی ؑ کے چند اقوال زریں

Discussion in 'Aqwaal e Zareen' started by PakArt, May 10, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan Staff Member

    :th_salam OK:
    :read post:​
    - 1:- جب دنیا کسی پر مہربان ہوتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے دے دیتی ہے اور جب کسی سے منہ موڑتی ہے تو اس کی ذاتی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے ۔
    2:- میرے بعد تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں حق سے زیادہ مخفی کوئی چیز نہ ہوگی ۔اور باطل سے زیادہ کوئی چیز واضح نہ ہوگی اور اس دور میں اللہ پر زیادہ جھوٹ بولے جائیں گے ۔نیکی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھا جائے گا ۔
    3:- لوگوں سے ایسی معاشرت رکھو اگر تم مرجاؤ وہ تم پر روئیں اور اگر تم زندہ رہو تو تم سے ملاقات کے خواہش مند ہوں ۔
    4:- بھوکے شریف اور شکم سیر کمینے کے حملہ سے بچو ۔
    5:- میرے متعلق دو شخص ہلاک ہوں گے ۔ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جو عداوت رکھے ۔
    6:- منافقین سے بچو کیونکہ وہ گمراہ کنندہ ہیں ۔
    7:- حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر پائیدار نہیں ہوئی ۔اسے چھوٹا سمجھا جائے تاکہ وہ بڑی قراری پائے اسے چھپایا جائے تاکہ وہ خود بخود ظاہر ہو ۔ اور اس میں جلدی کی جائے تاکہ وہ خوش گوار ہو ۔
    8:- ہر اس عمل سے بچو جس کا کرنے والا اسے اپنے لئے پسند کرے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے ناپسند کرے اور ہر اس عمل سے بچو جسے خلوت کی گھڑیوں میں کیا جائے اور جلوت میں اس سے پرہیز کیا جائے اور ہر اس عمل سے بچو جب اس کے عمل کرنے والے سے اس کے متعلق سوال کیا جائے تو وہ اس کا انکار کرے اور معذرت پیش کرے ۔
    9:-نیکی کے والا نیکی سے بہتر اور برائی کرنے والی برائی سے بدتر ہے۔
    10:- صبر دوطرح کا ہے ۔ایک ناپسند امر پر صبر کرنا اور دوسرا پسندیدہ امر سے صبر کرا ۔
    11:- مقام رہنمائی پر فائز ہونے والے کوچاہئے کہ دوسروں کی تعلیم سے قبل خود تعلیم حاصل کرے اور لوگوں کو اپنی زبان سے ادب سکھانے نے قبل خود ادب حاصل کرے -
    12:- دنیا اور آخرت ایک دوسر ے کی ضد اور نقیض ہیں اور علیحدہ علیحدہ راستے ہیں ۔ جو دنیا سے محبت کرتا ہے وہ آخرت سے نفرت کرتا ہے ۔ اور دنیا اور آخرت مشرق ومغرب کی طرح ہیں جتنا کوئی کسی کے قریب ہوتا ہے اتنا ہی دوسرے سے دور ہوتا ہے ۔
    13:- شاہ کا مصاحب شیر پر سواری کرنے والے کی مانند ہوتاہے لوگ تو اس پررشک کرتے ہیں جب کہ اسے خود معلوم ہوتاہے کہ وہ کس پر سوال ہے ۔
    14:- جس کی نظر میں اس کے نفس کی عزت ہوتی ہے ، اسے خواہشات کم قیمت نظر آتی ہیں ۔
    15:- عدل کی ایک صورت ہے اور ظلم کی کئی صورتیں ہیں اسی لئے ظلم کا ارتکاب آسان اور عدل کا جاری کرنا مشکل ہے اور عدل وظلم کی مثال تیرکے نشانے پرلگنے اور خطا ہوجانے کی مانند ہے ۔
    صحیح نشانہ کے لئے کافی محنت اور ریاضت کی ضرورت ہے جبکہ غلط نشانے کے لئے محنت اور ریاضت کی ضرورت نہیں ہے ۔
    16:- دنیا دوسری چیزوں سے غافل کردیتی ہے ۔دنیا دار جب ایک چیزحا صل کرلیتا ہے تو اسے دوسروی چیز کا حرص لاحق ہوجاتا ہے ۔
    17:- تم ایسے زمانے میں رہ رہے ہو جس میں اچھائی منہ موڑ رہی ہے اور برائی
    آگے بڑھ رہی ہے ۔
    لوگوں کے مختلف طبقات پر نگاہ ڈال کر دیکھو تو تمہیں ایسے فقیر نظر آئیں گے جو اپنے فقر کی شکایات کرتے ہوں گے اور تمہیں ایسے دولت مند نظر آئیں گے جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کررہے ہوں گے ۔تمہیں ایسے بخیل نظر آئیں گے جو حقوق الہی میں کنجوسی کرتے ہوں گے اور ایسے سرکش نظر آئیں گے جن کے کان مواعظ کے سننے سے بہرے ہوچکے ہوں گے ۔ اللہ کی لعنت ہو ان لوگوں پر جو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے ۔اور برائی سے ورکتے ہیں لیکن خود اس پر عمل کرتے ہیں ۔
    18:- مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے اور منافق کا دل ان کی زبان کے پیچھے ہوتا ہے ۔کیونکہ مومن جب کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو پہلے اس پر خوب غور وخوص کرتا ہے ۔اگر بات اچھی ہوتی ہے تو اسے ظاہر کرتا ہے اگر بات اچھی نہ ہو تو اسے چھپا لیتا ہے ۔اور منافق ہر وہ بات کہتا ہے جو اس کی زبان پر آتی ہے اور وہ اس بات کی کبھی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کا فائدہ کس بات میں ہے اور نقصان کس بات میں ہے ۔
    19:- خدا کی قسم ! معاویہ مجھ سے زیادہ دانا نہیں ہے لیکن وہ غداری اور مکر وفریب سے کام لیتاہے ۔
    حسن علیہ السلام کو وصیت
    20:- صفّین سے واپسی پر اپنے فرزند حسن مجتبی کو درج ذیل وصیت لکھائی ،جس کے چیدہ چیدہ نکات ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں :
    یہ وصیت ہے اس باپ کی جو فنا ہونے والا اور زمانے کی چیرہ دستیوں کا اقرار کرنے والا ہے ۔ جس کی عمر پیٹھ پھرائے ہوئے ہے اور جو زمانے کی سختیوں
    سے لاچار ہے اور دنیا کی برائیوں کو محسوس کرچکا ہے اور مرنے والوں کے گھروں میں مقیم اور کل کو یہاں سے رخت سفر باندھ لینے والا ہے ۔
    اس بیٹے کے نام ۔جو نہ ملنے والی باتوں کا آرزو مند ،جادہ عدم کا راہ سپار ،بیماریوں کا ہدف ۔زمانے کے ہاتھ گروی ،مصیبتوں کا نشانہ ، دنیا کا پابند اور اس کی فریب کاریوں کا تاجر ، موت کا قرض دار ،اجل کا قیدی غموں کا حلیف ،حزن وملال کا ساتھی ،آفتوں میں مبتلا ،نفس سے عاجز اور مرنے والوں کا جانشین ہے ۔
    میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا ،اس کے احکام کی پابندی کرنا اور اس کے ذکر سے قلب کو آباد رکھنا اور اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا ۔تمہارے اور اللہ کے درمیان جو رشتہ ہے اس سے زیادہ مضبوط اور رشتہ ہو بھی کیا سکتاہے ؟
    بشرطیکہ مضبوطی سے اسے تھامے رہو ۔وعظ وپند سے دل کو زندہ رکھنا اور زہد سے اس کی خواہشوں کو مردہ اور یقین سے اسے سہار دینا اور حکمت سے اسے پر نور بنانا ۔موت کی یادہ سے اسے قابو میں کرنا ۔فنا کے اقرار پر اسے ٹھہرانا ۔ دنیا کے حادثے اس کے سامنے لانا ۔گردش روزگار سے اسے ڈرانا ۔ گزرے ہوؤں کے واقعات اس کے سامنے رکھنا ۔تمہارے والے لوگوں پر جو بیتی ہے اسے یاد لانا ۔ان کے گھروں اور کھنڈروں میں چلنا پھرنا ۔
    اپنی اصل منزل کا انتظام کرو اور اپنی آخرت کا دنیا سے سودا نہ کرو اور جس بات کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے اس کے بارے میں زبان نہ ہلاؤ اور جس راہ میں بھٹک جانے کا اندیشہ ہو اس راہ میں قدم نہ اٹھاؤ ۔نیکی کی تلقین کرو تاکہ خود بھی اہل خیر میں محسوب ہو ۔ہاتھ اور زبان کے ذریعہ سے برائی کو روکتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو بروں سے الگ رہو ۔خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اثر نہ لو ۔حق جہاں ہو ۔
    سختیوں میں پھاند کر اس تک پہنچ جاؤ ۔دین میں سوجھ بوجھ پیدا کرو سختیوں کو جھیل لے جانے کے خو گر بنو ۔اپنے ہر معاملہ میں اللہ کے حوالے کردو ۔
    میرے فرزند! میری وصیت کو سمجھو اور یہ یقین رکھو کہ جس کے ہاتھ میں موت ہے اسی کے ہاتھ میں زندگی بھی ہے اور جو پیدا کرنے والا ہے ۔وہی مارنے والا بھی ہے ۔اور جو نیست ونابود کرنے والا ہے ،وہی دوبارہ پلٹانے والا بھی ہے ، اورجو بیمار کرنے وال ہے وہی صحت عطا کرنے والا بھی ہے ۔
    اے فرزند ! اپنے اور دوسروں کے درمیان ہر معاملہ میں اپنی ذات کو میزان قراردو اورجو اپنے لئے پسند کرتے ہو ،وہی دوسروں کے لئے پسند کرو اور جو اپنے لئے نہیں چاہتے ، وہ دوسروں کے لئے بھی نہ چاہو ۔ جس طرح چاہتے ہو کہ تم پرزیادتی نہ ہو ۔یو نہی دوسروں پر بھی زیادتی نہ ہو۔ اور جس طرح چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ حسن سلوک ہو ،یونہی دوسروں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ دوسروں کی جس چیز کو برا سمجھتے ہو اسے اپنے میں بھی ہو تو برا سمجھو اور لوگوں کے ساتھ تمہارا جو رویہ ہو اسی رویہ کو اپنے لئے بھی درست سمجھو ۔دوسروں کے لئے وہ بات نہ کہو ۔جو اپنے لئے سننا پسند نہیں کرتے ۔دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے محنت مزدوری کرلینا بہتر ہے ۔جو زیادہ بولتا ہے وہ بے معنی باتیں کرنے لگتا ہے ۔اور سوچ وبچار سے کام لینے والا صحیح راستہ دیکھ لیتا ہے ۔نیکوں سے میل جول رکھوگے تو تم بھی نیک ہوجاؤ گے ۔ بروں سے بچے رہوگے تو ان کے اثرات سے محفوظ رہو گے ۔
    بد ترین کھانا وہ ہے جو حرام اور بد ترین ظلم وہ ہے جو کسی کمزور اور ناتوان پر کیا جائے ۔خبردار امیدوں کے سہارے پر نہ بیٹھنا ۔کیونکہ امیدیں احمقوں کا سرمایہ ہوتی ہیں ۔ تجربوں کو محفوظ رکھنا عقل مندی ہے ۔بہترین تجربہ وہ
    ہے جو پندو نصیحت دے ۔ جو تم سے حسن ظن رکھے ،اس کے حسن ظن کو سچا ثابت کرو ۔باہمی روابط کی بنا پر اپنے کسی بھائی کی حق تلفی نہ کرو کیونکہ پھروہ بھائی کہاں رہا جس کا حق تم تلف کرو ۔یہ نہ ہونا چاہیئے کہ تمہارے گھر والے تمہارے ہاتھوں دنیا جہاں میں سب سے زیادہ بد بخت ہوجائیں ۔جو تم سے تعلقات قائم رکھنا پسند ہی نہ کرت ہو۔ اس کے خواہ مخواہ پیچھے نہ پڑو تمہار دوست قطع تعلق کرے ۔تو تم رشتہ محبت جوڑنے میں اس پر بازی لے جاؤ اور وہ برائی سے پیش آئے تو تم حسن سلوک میں اس سے بڑھ جاؤ ۔
    اے فرزند ! یقین رکھو رزق دو طرح کا ہوتاہے ۔ایک وہ جس کی تم جستجو کرتے ہو اور ایک ہو جو تمہاری جستجو میں لگا ہوا ہے ۔ اگر تم اس کی طرف نہ جاؤگے تو بھی وہ تم تک آکر رہے گا ۔
    پردیسی وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو ۔ اور جو حق سے تجاوز کرجاتا ہے اس کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے ۔ جو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھتا ۔اس کی منزلت برقرار رہتی ہے ۔ جاہل سے علاقہ توڑنا ، عقل مند سے رشتہ جوڑنے کے برابر ہے ۔جو دنیا پر اعتماد کرکے مطمئن ہوجاتا ہے ۔ دنیا اسے دغا دے جاتی ہے جو اسے عظمت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے وہ اسے پست وذلیل کرتی ہے ۔
    راستے سے پہلے شریک سفر اور گھر سے پہلے ہمسایہ کے متعلق پوچھ گچھ کرلو ۔ خبردار ! اپنی گفتگو میں ہنسانے والی باتیں نہ لاؤ ۔اگر چہ وہ نقل قول کی حیثیت سے ہوں ۔عورتوں سے ہرگز مشورہ نہ لو کیونکہ ان کی رائے کمزور اور ارادہ سست ہوتا ہے ۔انہیں پردہ میں بٹھا کران کی آنکھوں کو تاک جھانک سے روکو ۔کیونکہ پردہ کی سختی ان کی عزت وآبرو کو برقرار رکھنے والی ہے ۔ان کا گھر وں سے نکلنا اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنا کسی ناقابل اعتماد کو گھر میں آنے دینا اور اگر بن پڑے تو ایسا کرنا تمہارے علاوہ کسی اور کو وہ پہچانتی ہی نہ ہو ۔
    عورت کو اس کے ذاتی امور کے علاوہ دوسرے اختیارات نہ سونپو کیونکہ عورت ایک پھول ہے وہ کارفرما اور حکمران نہیں ہے ۔
    21:- انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے ۔
    22:- جو شخص اپنی قدر ومنزلت کو نہیں پہنچانتا وہ ہلاک ہوجاتا ہے ۔
    23:- جو شخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے جو اس سے بد ظن ہو ۔
    24:- جو خود رائی سے کام لے گا وہ تباہ وبرباد ہوگا اور جو دوسروں سے مشورہ لے گا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہوجائے گا ۔
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Jazak Allah
     
  3. نمرہ

    نمرہ Supper Moderator

    jazak Allah very nice sharing
     

Share This Page