1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

دل پگھل رہا ہے


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'News & Views' started by PRINCE SHAAN, May 25, 2014.

News & Views"/>May 25, 2014"/>

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest


    دل پگھل رہا ہے

    ایک بار مصر کا صدر جمال عبدالناصر سوویت یونین کے سرکاری دورے پر اپنے وزراءکے وفد کے ساتھ گیا مذاکرات کا دور چل رہا تھا باتوں باتوں میں سوویت یونین کے صدر نے جمال عبدالناصر سے طنزیہ انداز میں پوچھا: ”جمال عبدالناصر ہمارے لیے کیا لائے ہو؟“
    سوویت یونین کمیونسٹ ملک تھا یعنی وہ لوگ اللہ کے وجود سے ہی منکر تھے۔ جمال عبدالناصر نے کچھ دیر سوچا اورپھر جواب دیا ” جب اگلی بار آئوں گا تو ایک تحفہ لائوں گا۔“ روسی صدر نے مسکراتے ہوئے کہا ”میں انتظار کروں گا۔“
    کچھ عرصہ بعد جمال عبدالناصر دوبارہ سوویت یونین کی دعوت پر اپنے سرکاری وفد کے ساتھ جانے لگے تو انہوں نے حکم دیا کہ قاری عبدالباسط الصمد (جو کہ دنیا کے سب سے مشہور قرآن کے قاری وفات سے پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں اور جن کی تلاوت پوری دنیا میں اب بھی سنی جاتی ہے) کو بلایا جائے اور ان کو اس وفد میں شامل کیا جائے۔ جب وفد سوویت یونین پہنچا اور پہلے کی طرح جب دونوں صدور آپس میں بیٹھے تو حسب سابق سوویت یونین کے صدر نے پوچھا: ”جمال عبدالناصر! ہمارے لیے کیا لائے ہو؟ آپ نے کہا تھا کہ اگلی بار آپ کیلئے ایک تحفہ لائوں گا‘ ایسا کیا تحفہ ہے؟ جو آپ ہمیں دو گے۔“
    جمال عبدالناصر نے پراعتماد انداز میں جواب دیا کہ آپ کیلئے واقعی ایک تحفہ لایا ہوں۔ سوویت یونین کے صدر نے اشتیاق سے پوچھا ”وہ کیا تحفہ ہے؟۔“ جمال عبدالناصر نے قاری عبدالباسط (رحمة اللہ علیہ) کو بلایا اور سوویت صدر کے سامنے کھڑا کیا اور کہا کہ ”یہ تحفہ ہے“ وہ حیران ہوا‘ اور پوچھنے لگا” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ “جمال عبدالناصر نے قاری عبدالباسط کو کہا ”ان کو تلاوت قرآن سنائیں“ اس وقت سوویت یونین کی تمام کابینہ اور بڑے بڑے وزراءاور مصر کا سرکاری وفد اس ہال میں بیٹھا تھا قاری عبدالباسط ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے (قاری عبدالباسط فرماتے ہیں کہ میں نے دل ہی دل میں دعاکی کہ اے اللہ! میں تیرے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے کبھی پریشان نہیں ہوا‘ لیکن آج میرے سامنے تجھے نہ ماننے والے اور تیرے قرآن کاانکار کرنے والے بیٹھے ہیں اور جو اپنی طاقت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں تو میری زبان میں ایسی تاثیر دے دے جو ان کے دلوں میں اتر جائے‘ کہتے ہیں کہ میں نے آنکھیں بند کرکے تلاوت شروع کی‘ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیسے پڑھا؟ کہاں سے پڑھا؟ ہاں اتنا ضرور معلوم ہے کہ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو میرے آنسو بہہ رہے تھے۔) جب قاری عبدالباسط نے تلاوت شروع کی تو کچھ دیر بعد جمال عبدالناصر نے چپکے سے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے سوویت صدر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جب انہوں نے پیچھے نظریں دوڑائیں تو مصر کے وفد کے ساتھ ساتھ پوری سوویت کابینہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔ جب تلاوت ختم ہوئی تو جمال عبدالناصر نے اپنے ہم منصب سے پوچھا کہ قرآن تو ہمارا ہے ….ہماری آنکھوں سے آنسو بہیں تو سمجھ آتا ہے‘ لیکن آپ کیوں رو رہے تھے؟ سوویت صدر کہنے لگے” جمال عبدالناصر سمجھ میں تو کچھ بھی نہیں آیا لیکن پتہ نہیں کیوں دل پگھل رہا ہے اور بے اختیار آنسو بہے جارہے ہیں۔“

     
  2. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    بہت عمدہ اشتراک ہے۔۔۔
    کیپ اٹ اپ
     
  3. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    Very Nice
    Keep it up
     
  4. Rahi
    Offline

    Rahi Regular Member
    • 36/49

    بہت عمدہ اور معلوماتی شئیرنگ ہے، شکریہ
     

Share This Page