1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

محمّد صلعم نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا

Discussion in 'Hadess Mubarak' started by PRINCE SHAAN, May 28, 2014.

  1. [​IMG]
    [​IMG]
     
    PakArt likes this.
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    jazak allah
     
  3. Asad khan786

    Asad khan786 Well Wishir

    اپ نے بہت ہی اچھی شیرنگ کی ہے اپ کی مذید شیرنگ کا انتظار رے گا اپنی کشش جاری رکھے
     
  4. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan Staff Member

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    [​IMG]
    [​IMG]
    Click to expand...
    [​IMG]
     
  • PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan Staff Member

    امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
    حدثنا علي بن حمشاذ العدل، إملاء، ثنا هارون بن العباس الهاشمي، ثنا جندل بن والق، ثنا عمرو بن أوس الأنصاري، ثنا سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: «أوحى الله إلى عيسى عليه السلام يا عيسى آمن بمحمد وأمر من أدركه من أمتك أن يؤمنوا به فلولا محمد ما خلقت آدم ولولا محمد ما خلقت الجنة ولا النار ولقد خلقت العرش على الماء فاضطرب فكتبت عليه لا إله إلا الله محمد رسول الله فسكن» هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه " [المستدرك على الصحيحين للحاكم: 2/ 671]

    یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے ۔
    عمرو بن أوس الأنصارى یہ مجہول ہے اسی نے یہ روایت بیان کی ہے ۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ نے میزان میں اسے مجہول قراردیتے ہوئے کہا:
    يجهل حاله.أتى بخبر منكر.أخرجه الحاكم في مستدركه، وأظنه موضوعا
    اس کی حالت مجہول ہے ۔ اس نے ایک منکر روایت بیان کی ہے جسے امام حاکم نے مستدرک میں روایت کیا ہے اور میں اسے موضوع سمجھتا ہوں[ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 246]

    امام ذہبی نے مستدرک کی تلخیص میں بھی امام حاکم پر تعاقب کرتے ہوئے کہا:
    أظنه موضوعا على سعيد
    میں سمجھتاہوں کہ سعیدبن ابی عروبہ کے طریق سے یہ حدیث گھڑی گئی ہے۔[المستدرك للحاكم مع تعليق الذهبي: 2/ 671]
     
  • IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    ماشاء اللہ ! جزاک اللہ خیر
     
  • IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    ماشاء اللہ ! جزاک اللہ خیر
     
  • IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    ماشاء اللہ ! جزاک اللہ خیر
     
  • Share This Page